ابنا: انتخابات کے پہلے مرحلے میں فرانس کے موجودہ صدر نیکولا سرکوزی کے لگ بھگ سّتائیس فیصد ووٹوں کے مقابلے میں سوشلسٹ پارٹی کے نامزد امیدوار فرانسوا اولینڈ نے تقریبا تیس فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی کی لیڈر میرین لی پن نے صرف بیس فیصد ووٹ حاصل کئے اور وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے سے محروم رہیں ۔
نیشنل فرنٹ کیلئے بیس فیصد ووٹ ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتے ہیں جو انتخابات کے مستقبل کے تعّین میں موثر کردار کے بھی حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دونوں حریف امیدواروں کی نظریں نیشنل فرنٹ کے ووٹوں پر ٹکی ہوئی ہیں ۔ فرانس میں صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 6/ مئی کو منعقد ہوگا ۔
سنہ 1958 کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ فرانس کا کوئی موجودہ صدر صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ صدارتی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والے نامزد امیدوار فرانسوا بائیرو نے جنھوں نے صرف ساڑھے آٹھہ فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں انتخابات میں فرانسیسی عوام کی شرکت میں عدم دلچسپی اور انتخابات کے نتائج کی اصل وجہ اقتصادی مسائل کو قراردیا ہے۔ فرانس کے صدارتی انتخابات کے یہ نتائج یورپی یونین کیلئے بھی قابل ذکر اہمیت کے حامل ہیں ۔
برطانوی ہفت روزہ جریدے آبزرور نے لکھا ہے کہ یہ نتائج یورپی یونین کی اقتصادی پالیسیوں اور اس علاقے کے ملکوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں اور فرانسوا اولینڈ کے انتخاب سے یورپی یونین میں طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے ۔ جرمنی کے ہفت روزہ جریدے اشپیگل نے بھی لکھا ہے کہ فرانس کے یہ انتخابات جرمنی کی چانسلر کیلئے بہت زیادہ اہم یہانتکہ جرمنی کی بعض ریاستوں کی ووٹنگ سے بھی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔
مجموعی طور پر فرانس کے صدارتی انتخابات میں سرکوزی کے زیادہ ووٹ حاصل نہ کرپانے کی وجہ ان کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی مسائل سے مربوط ہے اسلئے کہ خاص طور سے خارجہ پالیسی میں سرکوزی کی جانب سے امریکہ اور جرمنی کی تابعداری و یکسوئی سے فرانس میں ان کی پوزیشن بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے ۔....... /169